کلامِ داغردیف س

آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بس

۱

آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بسدونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو بس بس اجی بس

۲

آپ کی بندہ نوازی ہے جہاں میں مشہورجانتا ہے یہ غلام آپ کو بس بس اجی بس

۳

منہ نہ کھلوایئے میرا یوں ہی رہنے دیجےیاد بھی ہے وہ کلام آپ کو بس بس اجی بس

۴

ہم نے کل دیکھ لیا دیکھ لیا دیکھ لیاکہیں جاتے سر شام آپ کو بس بس اجی بس

۵

پیجیے خون جگر اپنا جناب زاہدبادہ و ساغر و جام آپ کو بس بس اجی بس

۵۲ / ۱۷۹