کلامِ داغردیف ر
یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر
۱
یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پررکھ لیا تو نے تو عشاق کو تلواروں پر
۲
محتسب توڑ کے شیشہ نہ بہا مفت شرابارے کم بخت چھڑک دے اسے مے خواروں پر
۳
عاشق آئے ہیں کہ دیوانوں کا لشکر آیاکیا چڑھائی ہے ترے کوچہ کی دیواروں پر
۴
داغؔ کا عشق بھی دنیا سے نرالا دیکھادل جب آتا ہے تو آتا ہے دل آزاروں پر
۵۱ / ۱۷۹