جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
غضب آیا ستم ٹوٹا قیامت ہو گئی برپایہ پوچھا تھا کہ تم آزردہ مجھ سے میری جاں کیوں ہو
About this couplet
This is couplet 6 of 14 in “جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو” in the section Ghazals — Radeef Wao, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (کلامِ داغ).
Read it in the poem۶ / ۱۴