کلامِ داغردیف و

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو

۱

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہوخلش کیوں ہو تپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو

۲

مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت کاخوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں کیوں ہو

۳

یہ مصرع لکھ دیا ظالم نے میری لوح تربت پرجو ہو فرقت کی بیتابی تو یوں خواب گراں کیوں ہو

۴

ہمیشہ آدمی کا آدمی غم خوار ہوتا ہےیہی بے اعتباری ہو تو کوئی راز داں کیوں ہو

۵

بہت نکلیں گے روز حشر تیرے جور کے خواہاںستم کا حوصلہ دنیا میں صرف امتحاں کیوں ہو

۶

غضب آیا ستم ٹوٹا قیامت ہو گئی برپایہ پوچھا تھا کہ تم آزردہ مجھ سے میری جاں کیوں ہو

۷

انہیں کو رنجش بے جا ہے لیکن ہے تو ہم سے ہےمحبت گر نہ ہو باہم شکایت درمیاں کیوں ہو

۸

گئے ٹھکرا کے مجھ کو اور پھر کہتے گئے یہ بھینصیب دشمناں تو پائمال آسماں کیوں ہو

۹

نئی تاکید ہے ضبط محبت کی وہ کہتے ہیںجگر ہو تو فغاں کیوں ہو دہن ہو تو زباں کیوں ہو

۱۰

شریک دور مے بزم عدو میں خاک ہوتے ہمکسی نے رات بھر اتنا نہ پوچھا تم یہاں کیوں ہو

۱۱

تحمل کر سکے کیا حسن نازک ان نگاہوں کااسے میں نے چھپایا ہے وگرنہ وہ نہاں کیوں ہو

۱۲

خدا شاہد خدا شاہد ہے کیوں کہتے ہو وعدوں پرخدا کو کیا غرض میرے تمہارے درمیاں کیوں ہو

۱۳

جگر سے کم نہیں اے چارہ گر داغ جگر مجھ کوجو پیدا کی ہو مر مر کے وہ دولت رائیگاں کیوں ہو

۱۴

نوید جاں فزا ہے کیا خبر قاتل کے آنے کیبتاؤ تو سہی تم داغؔ ایسے شادماں کیوں ہو

۱۰۴ / ۱۷۹