کلامِ داغردیف و
عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہو
۱
عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہواس باغ کا تو پھول ہو پھر اس میں بو نہ ہو
۲
اے درد عشق خانہ دل گھر ترا سہیآباد یہ مکان تو جب ہو کہ تو نہ ہو
۳
میں رنگ دیکھ کر نہ کروں گا یقیں کبھیجب تک عدو کے خون کی خنجر میں بو نہ ہو
۴
چاک دل رقیب کی جب فکر کیجیےپہلے یہ دیکھ لیجیے پہلا رفو نہ ہو
۵
اس فکر میں کچھ ان سے نہ ہم بات کر سکےیہ گفتگو نہ ہو کہیں وہ گفتگو نہ ہو
۶
مجھ کو جناب شیخ کی دعوت ضرور ہےایسی کہیں شراب ملے جس میں بو نہ ہو
۷
مٹی کی مورت اس سے تو اے داغؔ خوب ہےمعشوق کیا جو شوخ نہ ہو خوش گلو نہ ہو
۱۰۸ / ۱۷۹