کلامِ داغردیف و
سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کو
۱
سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کوکہیں جینے دے یوں ہی تو مجھ کو
۲
بندہ نو خرید ہوں ہر دمرکھیے آنکھوں کے رو بہ رو مجھ کو
۳
کل تک اس کی تلاش تھی لیکنآج ہے اپنی جستجو مجھ کو
۴
پہلے وہ تھا کہ تم نہ تھے آگاہاب وہ ہوں سن لو کو بہ کو مجھ کو
۵
واں شکایت پہ وہ حکایت ہےکہ نہیں جائے گفتگو مجھ کو
۶
اے حیات دو روزہ لے آئیکن گرفتاریوں میں تو مجھ کو
۷
داغؔ یکسو ہو خوش نہیں آتیناامیدانہ آرزو مجھ کو
۱۰۷ / ۱۷۹