کلامِ داغردیف و

پوشیدہ جب ہو راز کہ منہ میں زباں نہ ہو

۱

پوشیدہ جب ہو راز کہ منہ میں زباں نہ ہوہم بات بھی کریں تو بغیر از فغاں نہ ہو

۲

لے جائیں آہ مجھ کو مری بدگمانیاںظالم وہاں کہ تیرا پتہ بھی جہاں نہ ہو

۳

زاہد عذاب عشق صنم لطف حق سمجھیعنی عذاب ہم کو یہاں ہو وہاں نہ ہو

۴

نیرنگی چمن جو مجھے یاد آ گئیگل پر ہوا گمان کہ برگ خزاں نہ ہو

۵

تم کو مزہ نہ دے گی کبھی داستان عشقجب تک ہمارے منہ سے یہ قصہ بیاں نہ ہو

۶

ناقہ کو قیس کیا نہ لگا لائے راہ پرلیلی کا رازدار اگر سارباں نہ ہو

۷

تہمت کسی کو ظلم کی اے داغؔ کیوں لگائیںشکوہ بتوں سے کیا جو خدا مہرباں نہ ہو

۱۱۰ / ۱۷۹