کلامِ داغردیف و

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو

۱

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہوجاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو

۲

مطلب کی کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیںمطلب کی پوچھتے ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو

۳

آتا ہے بعد ظلم تمہیں کو تو رحم بھیاپنے کیے سے دل میں پشیماں تمہیں تو ہو

۴

پچھتاؤ گے بہت مرے دل کو اجاڑ کراس گھر میں اور کون ہے مہماں تمہیں تو ہو

۵

اک روز رنگ لائیں گی یہ مہربانیاںہم جانتے تھے جان کے خواہاں تمہیں تو ہو

۶

دل دار و دل فریب دل آزار و دل ستاںلاکھوں میں ہم کہیں گے کہ ہاں ہاں تمہیں تو ہو

۷

کرتے ہو داغؔ دور سے بت خانے کو سلاماپنی طرح کے ایک مسلماں تمہیں تو ہو

۱۱۱ / ۱۷۹