ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو

ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھوامتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہےہر گھڑی عاشق مضطر سے وہ ملتی ہے شبیہنقشہ بگڑی ہوئی صورت کا بنا رکھا ہےشکوۂ ہجر سے اے داغؔ اثر کی امیدآپ نے نام شکایت کا دعا رکھا ہے

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۱ / ۱