کلامِ داغمثنویات، مراثی و دیگر
ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھو
۱
ستم ایجاد کے انداز ستم تو دیکھوامتحاں عشق و ہوس کا یہ نیا رکھا ہےہر گھڑی عاشق مضطر سے وہ ملتی ہے شبیہنقشہ بگڑی ہوئی صورت کا بنا رکھا ہےشکوۂ ہجر سے اے داغؔ اثر کی امیدآپ نے نام شکایت کا دعا رکھا ہے
۱۷۸ / ۱۷۹