کلامِ داغمثنویات، مراثی و دیگر
پند نامہ
اپنے شاگردوں کو یہ عام ہدایت ہے مریکہ سمجھ لیں تہ دل سے وہ بجا و بے جا
شعر گوئی میں رہیں مد نظر یہ باتیںکہ بغیر ان کے فصاحت نہیں ہوتی پیدا
چست بندش ہو نہ ہو سست یہی خوبی ہےوہ فصاحت سے گرا شعر میں جو حرف دبا
عربی فارسی الفاظ جو اردو میں کہیںحرف علت کا برا ان میں ہے گرنا دبنا
الف وصل اگر آئے تو کچھ عیب نہیںلیکن الفاظ میں اردو کے یہ گرنا ہے روا
جس میں گنجلک نہ ہو تھوڑی بھی صراحت ہے وہیوہ کنایہ ہے جو تصریح سے بھی ہو اولیٰ
عیب و خوبی کا سمجھنا ہے اک امر نازکپہلے کچھ اور تھا اب رنگ زباں اور ہوا
یہی اردو ہے جو پہلے سے چلی آتی ہےاہل دہلی نے اسے اور سے اب اور کیا
مستند اہل زباں خاص ہیں دلی والےاس میں غیروں کا تصرف نہیں مانا جاتا
جوہری نقد سخن کے ہیں پرکھنے والےہے وہ ٹکسال سے باہر جو کسوٹی نہ چڑھا
بعض الفاظ جو دو آئے ہیں اک معنیٰ میںایک کو ترک کیا ایک کو قائم رکھا
ترک جو لفظ کیا اب وہ نہیں مستعملاگلے لوگوں کی زباں پر وہی دیتا تھا مزہ
گرچہ تعقید بری ہے مگر اچھی ہے کہیںہو جو بندش میں مناسب تو نہیں عیب ذرا
شعر میں حشو و زواید بھی برے ہوتے ہیںایسی بھرتی کو سمجھتے نہیں شاعر اچھا
گر کسی شعر میں ایطائے جلی آتا ہےوہ بڑا عیب ہے کہتے ہیں اسے بے معنیٰ
استعارہ جو مزے کا ہو مزے کی تشبیہاس میں اک لطف ہے اس کہنے کا پھر کیا کہنا
اصطلاح اچھی مثل اچھی ہو بندش اچھیروزمرہ بھی رہے صاف فصاحت سے بھرا
ہے اضافت بھی ضروری مگر ایسی تو نہ ہوایک مصرع میں جو ہو چار جگہ بلکہ سوا
عطف کا بھی ہے یہی حال یہی صورت ہےوہ بھی آئے متواتر تو نہایت ہے برا
لف و نشر آئے مرتب وہ بہت اچھا ہےاور ہو غیر مرتب تو نہیں کچھ بے جا
شعر میں آئے جو ایہام کسی موقع پرکیفیت اس میں بھی ہے وہ بھی نہایت اچھا
جو نہ مرغوب طبیعت ہو بری ہے وہ ردیفشعر بے لطف ہے گر قافیہ ہو بے ڈھنگا
ایک مصرع میں ہو تم دوسرے مصرع میں ہو تویہ شتر گربہ ہوا میں نے اسے ترک کیا
چند بحریں متعارف ہیں فقط اردو میںفارسی میں عربی میں ہیں مگر ان سے سوا
شعر میں ہوتی ہے شاعر کو ضرورت اس کیگر عروض اس نے پڑھا وہ ہے سخن ور دانا
مختصر یہ ہے کہ ہوتی ہے طبیعت استاددین اللہ کی ہے جس کو یہ نعمت ہو عطا
بے اثر کے نہیں ہوتا کبھی مقبول کلاماور تاثیر وہ شے ہے جسے دیتا ہے خدا
گرچہ دنیا میں ہوئے اور ہیں لاکھوں شاعرکسب فن سے نہیں ہوتی ہے یہ خوبی پیدا
سید احسنؔ جو مرے دوست بھی شاگرد بھی ہیںجن کو اللہ نے دی فکر رسا طبع رسا
شعر کے حسن و قبائح جو انھوں نے پوچھےان کی درخواست سے اک قطعہ یہ برجستہ کہا
پند نامہ جو کہا داغؔ نے بیکار نہیںکام کا قطعہ ہے یہ وقت پہ کام آئے گا
۱۷۹ / ۱۷۹