کلامِ دردردیف الف
جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
۱
جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگاکہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگا
۲
ان نے قصداً بھی میرے نالے کونہ سنا ہوگا گر سنا ہوگا
۳
دیکھیے اب کے غم سے جی میرانہ بچے گا بچے گا کیا ہوگا
۴
دل زمانے کے ہاتھ سے سالمکوئی ہوگا جو رہ گیا ہوگا
۵
حال مجھ غم زدہ کا جس تس نےجب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
۶
دل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیںکہیں غنچہ کوئی کھلا ہوگا
۷
یک بہ یک نام لے اٹھا میراجی میں کیا اس کے آ گیا ہوگا
۸
میرے نالوں پہ کوئی دنیا میںبن کیے آہ کم رہا ہوگا
۹
لیکن اس کو اثر خدا جانےنہ ہوا ہوگا یا ہوا ہوگا
۱۰
قتل سے میرے وہ جو باز رہاکسی بد خواہ نے کہا ہوگا
۱۱
دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھاآنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
۱ / ۲۸