کلامِ دردردیف الف

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا

۱

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا

۲

سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرمااس طرف کو کبھو گزر نہ کیا

۳

کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نوازسینہ کس وقت میں سپر نہ کیا

۴

کتنے بندوں کو جان سے کھویاکچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا

۵

دیکھنے کو رہے ترستے ہمنہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا

۶

آپ سے ہم گزر گئے کب کےکیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا

۷

کون سا دل ہے وہ کہ جس میں آہخانہ آباد تو نے گھر نہ کیا

۸

تجھ سے ظالم کے سامنے آیاجان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا

۹

سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔبے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا

۲ / ۲۸