کلامِ دردردیف الف
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
۱
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
۲
مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہکہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا
۳
یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میںکوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا
۴
اذیت مصیبت ملامت بلائیںترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
۵
کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاںکبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا
۶
تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائےادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا
۷
حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہمکھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا
۸
شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کےکسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا
۷ / ۲۸