کلامِ دردردیف الف
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
۱
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا
۲
میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑےمری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
۳
گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوںمیں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا
۴
جفا سے غرض امتحان وفا ہےتو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا
۵
قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیروخبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا
۶
خفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا توکہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا
۸ / ۲۸