کلامِ دردردیف ے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
۱
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
۲
وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکےآئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے
۳
میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھےنقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے
۴
قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لےاس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
۵
غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہاراپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے
۶
یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاںدوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے
۷
گو بحث کر کے بات بٹھائی بھی کیا حصولدل سے اٹھا غلاف اگر تو اٹھا سکے
۸
اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سےیہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے
۹
مست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشراے دردؔ چاہے لائے بہ خود پر نہ لا سکے
۲۱ / ۲۸