کلامِ دردردیف ے
دل مرا پھر دکھا دیا کن نے
۱
دل مرا پھر دکھا دیا کن نےسو گیا تھا جگا دیا کن نے
۲
میں کہاں اور خیال بوسہ کہاںمنہ سے منہ یوں بھڑا دیا کن نے
۳
وہ مرے چاہنے کو کیا جانےیہ سندیسا سنا دیا کن نے
۴
ہم بھی کچھ دیکھتے سمجھتے تھےسب یکایک چھپا دیا کن نے
۵
وہ بلائے سے بھاگتا تھا اوردردؔ تجھ تک بلا دیا کن نے
۲۰ / ۲۸