کلامِ دردردیف ے

مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے

۱

مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہےزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے

۲

خدا جانے کیا ہوگا انجام اس کامیں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے

۳

تمنا تری ہے اگر ہے تمناتری آرزو ہے اگر آرزو ہے

۴

کیا سیر سب ہم نے گلزار دنیاگل دوستی میں عجب رنگ و بو ہے

۵

غنیمت ہے یہ دید و دید یاراںجہاں آنکھ مند گئی نہ میں ہوں نہ تو ہے

۶

نظر میرے دل کی پڑی دردؔ کس پرجدھر دیکھتا ہوں وہی رو بہ رو ہے

۲۳ / ۲۸