کلامِ دردردیف ے
عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہے
۱
عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہےپر یہ لذت تو وہ ہے جی ہی جسے پاتا ہے
۲
آہ کب تک میں بکوں تیری بلا سنتی ہےباتیں لوگوں کی جو کچھ دل مجھے سنواتا ہے
۳
ہم نشیں پوچھ نہ اس شوخ کی خوبی مجھ سےکیا کہوں تجھ سے غرض جی کو مرے بھاتا ہے
۴
بات کچھ دل کی ہمارے تو نہ سلجھی ہم سےآپی خوش ہووے ہے پھر آپ ہی گھبراتا ہے
۵
جی کڑا کر کے ترے کوچے سے جب جاتا ہوںدل دشمن یہ مجھے گھیر کے پھر لاتا ہے
۶
راہ پینڈے کبھو اس شوخ کے تئیں ہم سے بھیدید وا دید تو ہوتی ہے جو مل جاتا ہے
۷
دردؔ کی قدر مرے یار سمجھنا واللہایسا آزاد ترے دام میں یوں آتا ہے
۲۴ / ۲۸