کلامِ دردردیف ن
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں
۱
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیںگر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیں
۲
دریائے معرفت کے دیکھا تو ہم ہیں ساحلگر وار ہیں تو ہم ہیں اور پار ہیں تو ہم ہیں
۳
وابستہ ہے ہمیں سے گر جبر ہے و گر قدرمجبور ہیں تو ہم ہیں مختار ہیں تو ہم ہیں
۴
تیرا ہی حسن جگ میں ہر چند موجزن ہےتس پر بھی تشنہ کام دیدار ہیں تو ہم ہیں
۵
الفاظ خلق ہم بن سب مہملات سے تھےمعنی کی طرح ربط گفتار ہیں تو ہم ہیں
۶
اوروں سے تو گرانی یک لخت اٹھ گئی ہےاے دردؔ اپنے دل کے گر بار ہیں تو ہم ہیں
۱۰ / ۲۸