کلامِ دردردیف م
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم
۱
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم
۲
عرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکیتعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم
۳
ہمیں تو باغ تجھ بن خانۂ ماتم نظر آیاادھر گل پھاڑتے تھے جیب روتی تھی ادھر شبنم
۴
کرے ہے کچھ سے کچھ تاثیر صحبت صاف طبعوں کیہوئی آتش سے گل کی بیٹھتے رشک شرر شبنم
۵
بھلا ٹک صبح ہونے دو اسے بھی دیکھ لیویں گےکسی عاشق کے رونے سے نہیں رکھتی خبر شبنم
۶
نہیں اسباب کچھ لازم سبک ساروں کے اٹھنے کوگئی اڑ دیکھتے اپنے بغیر از بال و پر شبنم
۷
نہ پایا جو گیا اس باغ سے ہرگز سراغ اس کانہ پلٹی پھر صبا ایدھر نہ پھر آئی نظر شبنم
۸
نہ سمجھا دردؔ ہم نے بھید یاں کی شادی و غم کاسحر خنداں ہے کیوں روتی ہے کس کو یاد کر شبنم
۹ / ۲۸