کلامِ دردردیف ن

ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں

۱

ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیںپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں

۲

آ جائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بتنگجیتا رہے گا کب تلک اے خضر مر کہیں

۳

پھرتی رہی تڑپتی ہی عالم میں جا بہ جادیکھا نہ میری آہ نے روئے اثر کہیں

۴

مدت تلک جہان میں ہنستے پھرا کیےجی میں ہے خوب روئیے اب بیٹھ کر کہیں

۵

یوں تو نظر پڑے ہیں دل افگار اور بھیدل ریش کوئی آپ سا دیکھا نہ پر کہیں

۶

ظالم جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ تو ولےپچھتاوے پھر تو آپ ہی ایسا نہ کر کہیں

۷

پھرتے تو ہو بنائے سج اپنی جدھر تدھرلگ جاوے دیکھیو نہ کسو کی نظر کہیں

۸

پوچھا میں درد سے کہ بتا تو سہی مجھےاے خانماں خراب ہے تیرے بھی گھر کہیں

۹

کہنے لگا مکان معین فقیر کولازم ہے کیا کہ ایک ہی جاگہ ہو ہر کہیں

۱۰

درویش ہر کجا کہ شب آمد سرائے اوستتو نے سنا نہیں ہے یہ مصرع مگر کہیں

۱۲ / ۲۸