کلامِ دردردیف ن

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں

۱

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں

۲

پڑی جس طرف کو نگاہ یاں نظر آ گیا ہے خدا ہی واںیہ ہیں گو کہ آنکھوں کی پتلیاں مرے دل میں جائے بتاں نہیں

۳

مرے دل کے شیشے کو بے وفا تو نے ٹکڑے ٹکڑے ہی کر دیامرے پاس تو وہی ایک تھا یاں دکان شیشہ گراں نہیں

۴

مجھے رات ساری ہی تیرے ہاں کٹے کیوں کے روتے نہ شمع ساںکہ ہو سکے ہے کچھ اب بیاں نہ یہ بات ہے کہ زباں نہیں

۵

کوئی سمجھے کیوں کے یہ مدعا کہ پہیلی سا ہے یہ ماجراکہا میں تجھے نہیں چاہ کیا لگا کہنے مجھ سے کہ ہاں نہیں

۶

نہ ملا ہمیں کوئی نکتہ داں یہ بپت سنا دیں بھلا کہاںنہ ہوا سبھوں پہ وہی عیاں جو کسو سے یاں تو نہاں نہیں

۷

تجھے درد کیوں کہ سناؤں میں نہ خدا کسی کو دکھائے یہجو کچھ اپنے جی پہ گزرتی ہے کہوں کیا کہ اس کا بیاں نہیں

۱۳ / ۲۸