کلامِ دردمثنویات، مراثی و دیگر
نامۂ درد کو مرے لے کر
۱
نامۂ درد کو مرے لے کرپاس جب یار کے گیا قاصدپڑھ کے کہنے لگا وہ سرنامہکون سا یار ہے بتا قاصدجس نے بھیجا ہے تیرے ہاتھ یہ خطمیں نہیں اس سے آشنا قاصد
۲۸ / ۲۸
کلامِ دردمثنویات، مراثی و دیگر
نامۂ درد کو مرے لے کرپاس جب یار کے گیا قاصدپڑھ کے کہنے لگا وہ سرنامہکون سا یار ہے بتا قاصدجس نے بھیجا ہے تیرے ہاتھ یہ خطمیں نہیں اس سے آشنا قاصد
۲۸ / ۲۸