کلامِ فانیردیف الف
جستجوئے نشاط مبہم کیا
۱
جستجوئے نشاط مبہم کیادل میسر ہے لذت غم کیا
۲
مستئ ہوش کے فسانے ہیںجشن پرویز و عشرت جم کیا
۳
ایک عالم کو دیکھتا ہوں میںیہ ترا دھیان ہے مجسم کیا
۴
اذن ہنگامۂ نگاہ نہ دےکیا ہماری بساط اور ہم کیا
۵
ننگ رحمت ہے احتیاج دعاانتظار گدائے مبرم کیا
۶
میری فطرت ہے گوش بر آوازسن رہا ہوں نوائے محرم کیا
۷
مٹ گیا نام عاشقی اب اورچاہتا ہے وہ حسن برہم کیا
۸
کاش پوچھو تو کچھ بتائیں ہمحاصل شکوہ ہائے باہم کیا
۹
دل کمال حیات ہے فانیؔدل کے مارے ہوؤں کا ماتم کیا
۷ / ۹۸