کلامِ فانیردیف الف

جذب دل جب بروئے کار آیا

۱

جذب دل جب بروئے کار آیاہر نفس سے پیام یار آیا

۲

موت کا انتظار تھا آئیجائیے اب مجھے قرار آیا

۳

جب کسی نے لیا تمہارا نامگریہ بے قصد و اختیار آیا

۴

بے قراری میں اب یہ ہوش نہیںکس کے در پر تجھے پکار آیا

۵

فرش گل پھر بچھا رہی ہے نسیمآئیے موسم بہار آیا

۶

آج ہم پی سکے نہ وہ آنسوان کے آگے جو بار بار آیا

۷

خیر تو ہے کہ آپ کے در سےآج فانیؔ امیدوار آیا

۸ / ۹۸