کلامِ فانیردیف الف
جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھا
۱
جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھاشمع جسے ہم سمجھے تھے شمع نہ تھی پروانہ تھا
۲
شعبدے آنکھوں کے ہم نے ایسے کتنے دیکھے ہیںآنکھ کھلی تو دنیا تھی بند ہوئی افسانہ تھا
۳
عہد جوانی ختم ہوا اب مرتے ہیں نہ جیتے ہیںہم بھی جیتے تھے جب تک مر جانے کا زمانہ تھا
۴
دل اب دل ہے خدا رکھے ساقی کو مے خانے کوورنہ کسے معلوم نہیں ٹوٹا سا پیمانہ تھا
۵
فانیؔ کو کیسا ہی سہی پھر بھی تجھی سے نسبت تھیدیوانہ تھا تھا کس کا تیرا ہی دیوانہ تھا
۹ / ۹۸