کلامِ فانیردیف الف
حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہونا
۱
حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہوناعمر بھر عقل سے سیکھا کیے ناداں ہونا
۲
چار زنجیر عناصر پہ ہے زنداں موقوفوحشت عشق ذرا سلسلۂ جنباں ہونا
۳
جمع کرتا ہوں گریباں کے نکالے ہوئے تاریاد آیا ہے مجھے سر بہ گریباں ہونا
۴
دل بس اک لرزش پیہم ہے سراپا یعنیتیرے آئینہ کو آتا نہیں حیراں ہونا
۵
فال افزدنی مشکل ہے ہر آسانی کارمیری مشکل کو مبارک نہیں آساں ہونا
۶
راحت انجام غم اور راحت دنیا معلوملکھ دیا دل کے مقدر میں پریشاں ہونا
۷
دے ترا حسن تغافل جسے ہے چاہے فریبورنہ تو اور جفاؤں پہ پشیماں ہونا
۸
ہائے وہ جلوۂ ایمن وہ نگاہ سر طورفتنہ ساماں سے ترا فتنۂ ساماں ہونا
۹
خاک فانیؔ کی قسم ہے تجھے اے دشت جنوںکس سے سیکھا ترے ذروں نے بیاباں ہونا
۱۰ / ۹۸