کلامِ فانیردیف الف

دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا

۱

دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھاہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھا

۲

میری نظر کی آڑ میں ان کا ظہور تھااللہ ان کے نور کا پردہ بھی نور تھا

۳

تھی ہر تڑپ سکون کی دنیا لیے ہوئےپہلو میں آپ تھے کہ دل ناصبور تھا

۴

ہم کشتگان غم پہ یہ الزام زندگیبے مہر کچھ تو پاس حقیقت ضرور تھا

۵

بالیں پہ تم جب آئے تو آئی وہ موت بھیجس موت کے لیے مجھے جینا ضرور تھا

۶

تھی ان کے روبرو بھی وہی شان اضطرابدل کو بھی اپنی وضع پہ کتنا غرور تھا

۷

لطف حیات بے خلش مدعا کہاںیعنی بقدر تلخئ صہبا سرور تھا

۸

اٹھ کر چلے تو حشر بھی اٹھنا تھا کیا ضروران کی گلی سے مدفن فانیؔ تو دور تھا

۱۱ / ۹۸