کلامِ فانیردیف الف

دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیا

۱

دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیادرد میں دل ڈوب کر قطرے سے دریا بن گیا

۲

ان کے آغوش مشیت میں ہے ناکامی مریکام کچھ اس طرح بگڑا ہے کہ گویا بن گیا

۳

دل کی رت ایسی تو یاد یار نے بدلی نہ تھییہ چمن اجڑا ہی اس ڈھب سے کہ صحرا بن گیا

۴

نقش موہوم حیات افسانہ در افسانہ تھاجب یہ نقش ابھرا تو اک حرف تمنا بن گیا

۵

لو مبارک لذت غم بھی ہے اب تو ناگواردل محبت میں جو بننا چاہیئے تھا بن گیا

۶

جلوۂ کثرت خود اپنا شوق بے اندازہ تھامحفل لیلیٰ مری نظروں میں لیلیٰ بن گیا

۷

میری محرومی بھی رسوا ہے کہ فانیؔ حال دلان کے کانوں تک نہ پہنچا اور فسانا بن گیا

۱۲ / ۹۸