کلامِ فانیردیف الف

جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھا

۱

جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھاجو خاک کا ذرہ تھا وحشت کدۂ دل تھا

۲

بیداد کی ہر تہ میں سو طرح سے شامل تھاوہ جان کا دشمن جو کہنے کو مرا دل تھا

۳

غم حسن مکمل تھا دل حیرت کامل تھاتصویر کا آئینہ تصویر کے قابل تھا

۴

ہم جی سے گزر جانا آسان سمجھتے تھےدیکھا تو محبت میں یہ کام بھی مشکل تھا

۵

آئینہ و دل دونوں کہنے ہی کی باتیں تھیںتیری ہی تجلی تھی اور تو ہی مقابل تھا

۶

ہر باطل و ہر ناحق اک راز حقیقت ہےجس شکل میں حق آیا وابستۂ باطل تھا

۷

ہاں آپ کسی کو یوں برباد نہیں کرتےیہ فانیؔٔ ناکارا سچ ہے اسی قابل تھا

۱۸ / ۹۸