کلامِ فانیردیف الف
ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا
۱
ضبط اپنا شعار تھا نہ رہادل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہا
۲
دل مرحوم کو خدا بخشےایک ہی غم گسار تھا نہ رہا
۳
آ کہ وقت سکون مرگ آیانالہ ناخوش گوار تھا نہ رہا
۴
ان کی بے مہریوں کو کیا معلومکوئی امیدوار تھا نہ رہا
۵
آہ کا اعتبار بھی کب تکآہ کا اعتبار تھا نہ رہا
۶
کچھ زمانے کو سازگار سہیجو ہمیں سازگار تھا نہ رہا
۷
اب گریباں کہیں سے چاک نہیںشغل فصل بہار تھا نہ رہا
۸
موت کا انتظار باقی ہےآپ کا انتظار تھا نہ رہا
۹
مہرباں یہ مزار فانیؔ ہےآپ کا جاں نثار تھا نہ رہا
۱۹ / ۹۸