کلامِ فانیردیف الف

یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھا

۱

یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھاایسا بھی ترے حسن کا عالم نہ ہوا تھا

۲

پھر چھیڑ دیا وسعت محشر کی فضا نےسودا ترے وحشی کا ابھی کم نہ ہوا تھا

۳

یا عشرت دو روزہ تھا یا حسرت دیروزوہ لمحۂ ہستی جو ابھی غم نہ ہوا تھا

۴

صد حیف وہ گل ہو کف گلچیں میں جو اب تکآزردۂ آویزش شبنم نہ ہوا تھا

۵

قاتل ہی مرا کیوں اسے کہتا ہے زمانہمانا وہ شریک صف ماتم نہ ہوا تھا

۶

راز آج مرے دم سے ہوا راز محبتکچھ راز نہ تھا جب کوئی محرم نہ ہوا تھا

۷

پاتے ہی خجل رحم کا دریا امڈ آیاپردہ مری آنکھوں کا ابھی نم نہ ہوا تھا

۸

رسوا نہ کر اس سوز کو اے شمع لب گورجو واقف دل سوزی ہمدم نہ ہوا تھا

۹

گھر خیر سے تقدیر نے ویرانہ بنایاسامان جنوں مجھ سے فراہم نہ ہوا تھا

۱۰

اک کفر سراپا نے کیا حشر کا قائلمیں معتقد حشر مجسم نہ ہوا تھا

۱۱

ہر دل میں نئی شان تجلی ہے کہ فانیؔنشتر ہے وہ انداز جو مرہم نہ ہوا تھا

۲۰ / ۹۸