کلامِ فانیردیف الف

یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا

۱

یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتااس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتا

۲

کہتے ہو کہ ہم وعدۂ پرسش نہیں کرتےیہ سن کے تو بیمار ہوا بھی نہیں جاتا

۳

دشوارئ انکار سے طالب نہیں ڈرتےیوں سہل تو اقرار ہوا بھی نہیں جاتا

۴

آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحتاحباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا

۵

جاتے ہوئے کھاتے ہو مری جان کی قسمیںاب جان سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا

۶

غم کیا ہے اگر منزل جاناں ہے بہت دورکیا خاک رہ یار ہوا بھی نہیں جاتا

۷

دیکھا نہ گیا اس سے تڑپتے ہوئے دل کوظالم سے جفاکار ہوا بھی نہیں جاتا

۸

یہ طرفہ ستم ہے کہ ستم بھی ہے کرم بھیاب خوگر آزار ہوا بھی نہیں جاتا

۲۲ / ۹۸