کلامِ فانیردیف الف

وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا

۱

وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیاحیران ہوں کہ دوں انہیں اس کا جواب کیا

۲

دل اور وہ بھی صرف مرا دردمند دلتیری نگاہ نے یہ کیا انتخاب کیا

۳

جاتی نہیں خلش الم روزگار کیاے آسماں ہوا وہ ترا انقلاب کیا

۴

نظارۂ جمال کی یاں تاب ہی نہیںاے برق حسن چاہیئے تجھ کو نقاب کیا

۵

وعدہ بھی کر لو وعدہ پہ یاں آ بھی جاؤ تمیہ سب سہی تمہاری نہیں کا جواب کیا

۶

بیش از گمان خواب نہیں فرصت حیاتفانیؔ تم اس خیال کو سمجھے ہو خواب کیا

۲۳ / ۹۸