کلامِ فانیردیف الف

وہ کہتے ہیں کہ ہے ٹوٹے ہوئے دل پر کرم میرا

۱

وہ کہتے ہیں کہ ہے ٹوٹے ہوئے دل پر کرم میرامگر منجملۂ آداب غم خواری ہے غم میرا

۲

وہاں سجدے سے اب تک قدسیوں کے سر نہیں اٹھتےپڑا تھا جس جگہ راہ محبت میں قدم میرا

۳

زہے تقدیر ناکامی کہ تیری مصلحت ٹھہریتری مرضی سے وابستہ ہوا اللہ رے غم میرا

۴

نہ جانیں اس سفر کی منزل اول کہاں ہوگیفنا کی آخری منزل پہ ہے پہلا قدم میرا

۵

مرے جوش طلب کی شان استغنا کوئی دیکھےکہ میں رہبر سے آگے مجھ سے آگے ہے قدم میرا

۶

میں وہ آزردۂ وہم مسرت ہوں معاذ اللہکہ غم کو غم سمجھنے سے بھی گھبراتا ہے دم میرا

۷

یہ محروم تبسم میر سامان تبسم ہےتری بزم طرب میں معتبر ہے اشک غم میرا

۸

اب آگے کس سے لکھا جائے آغاز محبت پرفسانہ ختم کر دیتے ہیں ارباب قلم میرا

۹

مری آوارگی ہر قید سے بے زار ہے شایدکہ اب اس کی گلی میں بھی گزر ہوتا ہے کم میرا

۱۰

بقا کہتے ہیں جس کو وہ مرا احسان ہے فانیؔوہ حادث ہوں کہ دنیائے قدم بھرتی ہے دم میرا

۲۴ / ۹۸