کلامِ فانیردیف الف
وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیا
۱
وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیاعیسیٰ کو ہو نوید کہ بیمار مر گیا
۲
آزاد کچھ ہوئے ہیں اسیران زندگییعنی جمال یار کا صدقہ اتر گیا
۳
دنیا میں حال آمد و رفت بشر نہ پوچھبے اختیار آ کے رہا بے خبر گیا
۴
شاید کہ شام ہجر کے مارے بھی جی اٹھیںصبح بہار حشر کا چہرہ اتر گیا
۵
آیا کہ دل گیا کوئی پوچھے تو کیا کہوںیہ جانتا ہوں دل ادھر آیا ادھر گیا
۶
ہاں سچ تو ہے شکایت زخم جگر غلطدل سے گزر کے تیر تمہارا کدھر گیا
۷
دل کا علاج کیجیے اب یا نہ کیجیےاپنا جو کام تھا وہ غم یار کر گیا
۸
کیا کہیے اپنی گرم روی ہائے شوق کوکچھ دور میرے ساتھ مرا راہبر گیا
۹
فانیؔ کی ذات سے غم ہستی کی تھی نمودشیرازہ آج دفتر غم کا بکھر گیا
۲۵ / ۹۸