کلامِ فانیردیف الف

واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا

۱

واہمہ کی یہ مشق پیہم کیایاس و امید شادی و غم کیا

۲

تم کو اس راز ماسوا کی قسمتم پہ چھایا ہوا ہے عالم کیا

۳

ان کے آگے غم اک فسانہ ہےان سے کہیے فسانۂ غم کیا

۴

عیش رفتہ کی یاد سے حاصلقصۂ خلد و ذکر آدم کیا

۵

تا کجا آہ زیر لب آخرانتہائے سکوت برہم کیا

۶

غم دنیا بقدر ظرف نہیںحسرت بیش و شکوۂ کم کیا

۷

سوز غم کی حدیں نہیں ملتیںبجھ گئی آتش جہنم کیا

۸

گرم و سرد زمانہ جو کچھ ہوورنہ فردوس کیا جہنم کیا

۹

موت جس کی حیات ہو فانیؔاس شہید ستم کا ماتم کیا

۲۶ / ۹۸