کلامِ فانیردیف الف

وائے نادانی یہ حسرت تھی کہ ہوتا در کھلا

۱

وائے نادانی یہ حسرت تھی کہ ہوتا در کھلاہم قفس راز اسیری کیا کہیں کیونکر کھلا

۲

فرصت رنج اسیری دی نہ ان دھڑکوں نے ہائےاب چھری صیاد نے لی اب قفس کا در کھلا

۳

اللہ اللہ اک دعائے مرگ کے دو دو اثرواں کھلا باب اجابت یاں قفس کا در کھلا

۴

اف اس آزادئ بے ہنگام کی مجبوریاںمیں قفس کے پاس یوں بیٹھا ہی رہتا پر کھلا

۵

عجلت پرواز جب ملنے بھی دے راہ گریزیوں تو کھلنے کو قفس کا در کھلا اکثر کھلا

۶

بند ہے باب قفس ہو سر تو پٹکے جائیےہم نے دیکھا ہے قفس کی تیلیوں میں در کھلا

۷

کم تو کیا صیاد بے تابی سوا ہو جائے گیتو نے ناحق تیلیوں میں رکھ دیا خنجر کھلا

۸

آسماں گرم تلافی چاہیئے کیسا قفسبجلیوں کے اک اشارے میں قفس کا در کھلا

۹

لکھ چکے ہم جا چکا خط گر یہی حالت رہیہاتھ میں آیا قلم اور شوق کا دفتر کھلا

۱۰

دل میں زخم اشکوں میں خوں صورت ببیں عالم مپرسوہ نگہ اف وہ مژہ ناوک چھپا نشتر کھلا

۱۱

دم بخود سکتے کا عالم مردنی چھائی ہوئیرنگ میری زندگی کا میری میت پر کھلا

۱۲

دل میں تیرا دھیان اک مدت رہا بیگانہ وارکھلتے ہی کھلتے کھلا اور کیا ہی شرما کر کھلا

۱۳

دیکھیے کیا گل کھلاتی ہے بہار اب کے برسخواب میں فانیؔ نے دیکھا ہے قفس کا در کھلا

۲۷ / ۹۸