کلامِ فانیردیف الف
نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کا
۱
نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کاوہ بھی اک رخ ہے تری انجمن آرائی کا
۲
آ چلا ہے مجھے کچھ وعدۂ فردا کا یقیںدل پہ الزام نہ آ جائے شکیبائی کا
۳
اب نہ کانٹوں ہی سے کچھ لاگ نہ پھولوں سے لگاؤہم نے دیکھا ہے تماشا تری رعنائی کا
۴
دونوں عالم سے گزر کر بھی زمانہ گزراکچھ ٹھکانا بھی ہے اس بادیہ پیمائی کا
۵
خود ہی بیتاب تجلی ہے ازل سے کوئیدیکھنے کے لیے پردہ ہے تمنائی کا
۶
لگ گئی بھیڑ یہ دیوانہ جدھر سے گزراایک عالم کو ہے سودا ترے سودائی کا
۷
پھر اسی کافر بے مہر کے در پر فانیؔلے چلا شوق مجھے ناصیہ فرسائی کا
۲۸ / ۹۸