کلامِ فانیردیف الف
نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہونا
۱
نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہوناتیرے بیمار کا اچھا نہیں اچھا ہونا
۲
ناصحا وسعت کاشانہ جنوں خیز نہیںورنہ کیا فرض ہے آوارۂ صحرا ہونا
۳
بس اب اے ضبط زیادہ مجھے محجوب نہ کرہے مری آنکھ کی تقدیر میں دریا ہونا
۴
کس سے کھلتے ہیں تری زلف گرہ گیر کے بلکوئی آسان ہے یہ عقدۂ دل وا ہونا
۵
نگۂ ناز کو آساں دم خنجر بننالب جاں بخش کو دشوار مسیحا ہونا
۶
ہائے باتوں میں تری لغزش مستانۂ نازہائے آنکھوں میں تری نشۂ صہبا ہونا
۷
ہمہ تن داغ غم عشق بتاں ہوں فانیؔدل سے بھاتا ہے مجھے نقش سویدا ہونا
۲۹ / ۹۸