کلامِ فانیردیف الف
مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیا
مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیادولت دو جہاں نہ دی اک دل مبتلا دیا
دل ہی نگاہ ناز کا ایک ادا شناس تھاجلوۂ برق طور نے طور کو کیوں جلا دیا
قبر میں جب کسی طرح دل کی تڑپ نہ کم ہوئییاد خرام ناز نے حشر کا آسرا دیا
روز جزا گلہ تو کیا شکر ستم ہی بن پڑاہائے کہ دل کے درد نے درد کو دل بنا دیا
اب مری لاش پر حضور موت کو کوستے تو ہیںآپ کو یہ بھی ہوش ہے کس نے کسے مٹا دیا
دل میں سما کے پھر گئی آس بندھا کے پھر گئیآج نگاہ دوست نے کعبہ بنا کے ڈھا دیا
اف کہ گناہ گار ہم ہیں تو مگر خطا معافآٹھ پہر کے درد نے دل ہی تو ہے دکھا دیا
آپ ہم اپنی آگ میں اے غم عشق جل بجھےآگ لگے اس آگ کو پھونک دیا جلا دیا
یوں نہ کسی طرح کٹی جب مری زندگی کی راتچھیڑ کے داستان غم دل نے مجھے سلا دیا
گریۂ آتشیں کی داد دے شب غم تو کون دےخود سر شام کیا بجھی شمع نے دل بجھا دیا
یاس نے درد ہی نہیں حق تو یہ ہے دوا بھی دیفانیؔ ناامید کو موت کا آسرا دیا
۳۰ / ۹۸