کلامِ فانیردیف الف

محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا

۱

محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جاغیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہو جا

۲

اے شوق طلب بڑھ کر مجنون ادا ہو جااے ہمت مردانہ راضی بہ رضا ہو جا

۳

آغوش فنا میں ہم پروردۂ آفت ہیںاے فتنۂ دوراں اٹھ اے حشر بپا ہو جا

۴

ضد اور یہ ضد اے دل اچھا تو خدا حافظقربان ہی اس بت پر ہوتا ہے تو جا ہو جا

۵

اس جان تمنا سے بے پردہ نہ شکوہ کروہ تجھ سے خفا ہے تو جینے سے خفا ہو جا

۶

ہر قافلۂ دل کو تو مژدۂ منزل دےہر رہ گزر غم میں نقش کف پا ہو جا

۷

یہ درد محبت بھی کیا شے ہے معاذ اللہمیں درد محبت سے کہتا ہوں سوا ہو جا

۸

ظالم کا نہ شکوہ کر ظلموں کی نہ پروا کرتو اپنی وفاؤں کی عزت پہ فدا ہو جا

۹

اس ہستئ فانی سے کر قطع نظر فانیؔتو دوست کا طالب ہے دشمن سے جدا ہو جا

۳۱ / ۹۸