کلامِ فانیردیف الف
مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جا
۱
مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جاجو ہو سکے تو بہرحال مسکرائے جا
۲
بہار صد چمنستان آرزو بن کرمرے خیال کی رنگینیوں میں آئے جا
۳
خرد نواز نگاہوں کی آڑ میں رہ کرفضائے عالم دیوانگی پہ چھائے جا
۴
پلائے جا کہ ابھی ہوش بے خودی ہے مجھےپلائے جا مجھے ساقی ابھی پلائے جا
۵
دل و جگر پہ گزر جائے گی جو گزرے گیتری نظر سے جو فتنے اٹھیں اٹھائے جا
۶
ذرا ٹھہر کہ اب انجام سوز غم ہے قریبچراغ زیست بھڑکنے کو ہے بجھائے جا
۷
سکوت میت فانیؔ ہے اک فسانۂ شوقلب خموش سے ہر مدعا کو پائے جا
۳۲ / ۹۸