کلامِ فانیردیف الف
لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہا
۱
لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہااب یہ بھی زندگی کا سہارا نہیں رہا
۲
تم مجھ سے کیا پھرے کہ قیامت سی آ گئییہ کیا ہوا کہ کوئی کسی کا نہیں رہا
۳
کیا کیا گلے نہ تھے کہ ادھر دیکھتے نہیںدیکھا تو کوئی دیکھنے والا نہیں رہا
۴
آہیں ہجوم یاس میں کچھ ایسی کھو گئیںدل آشنائے درد ہی گویا نہیں رہا
۵
اللہ رے چشم ہوش کی کثرت پرستیاںذرے ہی رہ گئے کوئی صحرا نہیں رہا
۶
دے ان پہ جان جس کو غرض ہو کہ دل کے بعدان کی نگاہ کا وہ تقاضا نہیں رہا
۷
تم دو گھڑی کو آئے نہ بیمار کے قریببیمار دو گھڑی کو بھی اچھا نہیں رہا
۸
فانیؔ بس اب خدا کے لیے ذکر دل نہ چھیڑجانے بھی دے بلا سے رہا یا نہیں رہا
۳۳ / ۹۸