کلامِ فانیردیف ے

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

۱

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہےموت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے

۲

آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیںجو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے

۳

خود جو نہ ہونے کا ہو عدم کیا اسے ہونا کہتے ہیںنیست نہ ہو تو ہست نہیں یہ ہستی کیا ہستی ہے

۴

عجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت کامل کے جلوےپستی ہے تو بلندی ہے راز بلندی پستی ہے

۵

جان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میںآگے مرضی گاہک کی ان داموں تو سستی ہے

۶

وحشت دل سے پھرنا ہے اپنے خدا سے پھر جانادیوانے یہ ہوش نہیں یہ تو ہوش پرستی ہے

۷

جگ سونا ہے تیرے بغیر آنکھوں کا کیا حال ہواجب بھی دنیا بستی تھی اب بھی دنیا بستی ہے

۸

آنسو تھے سو خشک ہوئے جی ہے کہ امڈا آتا ہےدل پہ گھٹا سی چھائی ہے کھلتی ہے نہ برستی ہے

۹

دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالمبستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے

۱۰

فانیؔ جس میں آنسو کیا دل کے لہو کا کال نہ تھاہائے وہ آنکھ اب پانی کی دو بوندوں کو ترستی ہے

۷۱ / ۹۸