کلامِ فانیردیف ے

ستم ایجاد رہوگے ستم ایجاد رہے

۱

ستم ایجاد رہوگے ستم ایجاد رہےاس میں اب شاد رہے یا کوئی ناشاد رہے

۲

آپ نے عہد کیا ہے مری غم خواری کااب اجازت ہو تو یہ عہد مجھے یاد رہے

۳

گر مری توبہ کو مقبول شکست توبہمیری تدبیر میں تقدیر کی افتاد رہے

۴

قید ہستی سے بہت تم نے کیے ہیں آزادکوئی اس قید محبت کی بھی میعاد رہے

۵

وہ خدائی ہو تو ہو شان تجلی تو نہیںجس تجلی میں نگاہوں کو خدا یاد رہے

۶

ظلم ہے تجھ سے بہ تقریب تکلف منسوبورنہ تقدیر وفا یہ ہے کہ برباد رہے

۷

دل آباد کا فانیؔ کوئی مفہوم نہیںہاں مگر جس میں کوئی حسرت برباد رہے

۷۲ / ۹۸