کلامِ فانیردیف ے
سوال دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہے
۱
سوال دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہےمجال دید پہ بجلی گرائی جاتی ہے
۲
خدا بخیر کرے ضبط شوق کا انجامنقاب میری نظر سے اٹھائی جاتی ہے
۳
اسی کو جلوۂ ایمان عشق کہتے ہیںہجوم یاس میں بھی آس پائی جاتی ہے
۴
اب آ گئے ہو تو اور اک ذرا ٹھہر جاؤابھی ابھی مری میت اٹھائی جاتی ہے
۵
مرے قیاس کو اپنی تلاش میں کھو کرمرے حواس کو دنیا دکھائی جاتی ہے
۷۳ / ۹۸