کلامِ فانیردیف ے
رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائے
۱
رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائےتیرا تو اے ستمگر ارمان رہ نہ جائے
۲
جو دل کی حسرتیں ہیں سب دل میں ہوں تو بہتراس گھر سے کوئی باہر مہمان رہ نہ جائے
۳
اقرار وصل تو ہے ایسا نہ ہو نہ آئیںمشکل ہماری ہو کر آسان رہ نہ جائے
۴
اے سوز غم جلا دے اے درد خوں رلا دےکچھ ان کی دل لگی کا سامان رہ نہ جائے
۵
سب منزلیں ہوئیں طے محشر ہے اور اے دلیہ ایک رہ گیا ہے میدان رہ نہ جائے
۶
وہ جام کفر پرور بھر دے کہ مست کر دےمستوں کے دل میں ساقی ایمان رہ نہ جائے
۷
آ کر پلٹ نہ خالی اے مرگ جان لے جافانیؔ کے سر پہ تیرا احسان رہ نہ جائے
۷۴ / ۹۸