کلامِ فانیردیف ے
جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہے
۱
جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہےکچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہے
۲
اب خیر سے ان کی بزم کا اتنا رنگ تو بدلا میرے بعدجب نام مرا آ جاتا ہے کچھ ذکر وفا ہو جاتا ہے
۳
یکتائے زمانہ ہونے پر صاحب یہ غرور خدائی کاسب کچھ ہو مگر خاکم بدہن کیا کوئی خدا ہو جاتا ہے
۴
قطرہ قطرہ رہتا ہے دریا سے جدا رہ سکنے تکجو تاب جدائی لا نہ سکے وہ قطرہ فنا ہو جاتا ہے
۵
پھر دل سے فانیؔ سارے کے سارے نقش جفا مٹ جاتے ہیںجس وقت وہ ظالم سامنے آ کر جان حیا ہو جاتا ہے
۷۶ / ۹۸